مرزا غالب


Mirza Asadullah Khan Ghalib

 

مرزا اسد اللہ خان غالب اردو اور فارسی زبان کے وہ عظیم شاعر ہیں جن کے بغیر اردو ادب کی تاریخ ادھوری ہے۔ انہیں اردو شاعری کا "سخنورِ اعظم" مانا جاتا ہے۔

غالب کی شخصیت اور ان کے کلام کی چند اہم خصوصیات درج ذیل ہیں:


1. مختصر سوانح عمری

·         پیدائش: 27 دسمبر 1797ء، آگرہ۔

·         وفات: 15 فروری 1869ء، دہلی۔

·         خاندان: ان کے آباؤ اجداد وسطی ایشیا (ایبک ترک) سے ہجرت کر کے ہندوستان آئے تھے۔

·         تخلص: پہلے 'اسد' تخلص کرتے تھے، بعد میں 'غالب' اختیار کیا۔

2. غالب کی شاعری کی انفرادیت

غالب کی شاعری روایتی شاعری سے ہٹ کر تھی۔ ان کے ہاں محض "عشق و عاشقی" نہیں بلکہ زندگی کے گہرے فلسفے ملتے ہیں:

·         فلسفیانہ انداز: وہ انسان، خدا، اور کائنات کے تعلق پر سوال اٹھاتے تھے۔

·         جدت پسندی: انہوں نے پرانی تشبیہات کو نئے معنی دیے۔

·         ظرافت اور شوخی: غالب کے کلام میں ایک خاص قسم کی ظرافت (Humor) پائی جاتی ہے، جو انہیں اپنے ہم عصروں سے ممتاز کرتی ہے۔

·         فارسی آمیز زبان: ان کی اردو میں فارسی تراکیب کا کثرت سے استعمال ملتا ہے۔

3. غالب کے خطوط (نثر نگاری)

غالب نے اردو نثر کو ایک نیا رخ دیا۔ ان سے پہلے اردو خط و کتابت بہت بوجھل اور مشکل زبان میں ہوتی تھی۔ غالب نے:

·         مراسلے کو مکالمہ بنا دیا (یعنی ایسا لگتا ہے جیسے دو آدمی آمنے سامنے بیٹھے بات کر رہے ہوں)۔

·         پہلی بار اردو میں سادہ اور بے تکلف زبان استعمال کی۔

4. مشہور اشعار

غالب کے سینکڑوں اشعار زبان زدِ عام ہیں، جیسے:

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے

بس کہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا


غالب کی شاعری آج بھی اتنی ہی تازہ محسوس ہوتی ہے جتنی ڈیڑھ سو سال پہلے تھی۔ ان کا "دیوانِ غالب" اردو ادب کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتابوں میں سے ایک ہے۔

کیا آپ غالب کے کسی مخصوص شعر کی تشریح جاننا چاہتے ہیں یا ان کی زندگی کا کوئی خاص واقعہ سننا چاہیں گے؟

زبردست! مرزا غالب کی زندگی جتنی ان کی شاعری دلچسپ ہے، اتنے ہی ان کے قصے اور لطیفے مشہور ہیں۔ ان کی شخصیت میں بلا کی ظرافت اور خودداری تھی۔

چونکہ آپ نے دلچسپی ظاہر کی ہے، تو میں آپ کو ان کی زندگی کا ایک مشہور واقعہ اور ایک لاجواب شعر کی تشریح پیش کرتا ہوں:


غالب کا لطیفہ: "آم اور گدھا"

غالب کو آموں سے عشق کی حد تک لگاؤ تھا۔ ایک بار وہ اپنے دوست حکیم رضی الدین خان کے ساتھ اپنے گھر کے برآمدے میں بیٹھے تھے۔ گلی سے ایک صاحب اپنے گدھے کے ساتھ گزرے۔ وہاں آموں کے کچھ چھلکے پڑے تھے، گدھے نے انہیں سونگھا اور آگے بڑھ گیا (گدھے آم نہیں کھاتے)۔

حکیم صاحب، جنہیں آم پسند نہیں تھے، طنزیہ انداز میں غالب سے بولے: "مرزا! دیکھو، آم تو گدھے بھی نہیں کھاتے۔"

غالب نے فوراً برجستہ جواب دیا: "بیشک! گدھے ہی آم نہیں کھاتے۔"


ایک شاہکار شعر اور اس کی تشریح

نہ تھا کچھ تو خدا تھا، کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا

ڈبویا مجھ کو ہونے نے، نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا

مختصر تشریح:

اس شعر میں غالب نے وجود (Existence) کے فلسفے کو بیان کیا ہے۔

1.      پہلا مصرع: یہ اسلامی تصورِ توحید کی طرف اشارہ ہے کہ جب کچھ نہیں تھا تب بھی خدا تھا، اور اگر یہ کائنات نہ بھی بنائی جاتی تو بھی خدا کی ذات قائم رہتی۔

2.      دوسرا مصرع: یہاں غالب اپنی "انانیت" یا "وجود" پر طنز کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میرے پیدا ہونے (ہونے) نے مجھے مصیبت میں ڈال دیا۔ اگر میں پیدا ہی نہ ہوتا تو میں بھی اسی نورِ الہیٰ یا عدم کا حصہ ہوتا جہاں کوئی دکھ یا پریشانی نہیں تھی۔ یعنی میرا وجود ہی میرے تمام مسائل کی جڑ ہے۔


غالب کی شوخی کا ایک اور پہلو

غالب اپنی تنگدستی اور قرض داری کا ذکر بھی بڑے مزے سے کرتے تھے:

قرض کی پیتے تھے مے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاں

رنگ لائے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن


کیا آپ غالب کے بارے میں کچھ اور جاننا چاہیں گے؟

·         ان کے حالاتِ زندگی (جیسے قلعہ معلیٰ سے وابستگی)؟

·         ان کے خطوط کا کوئی نمونہ؟

·         یا کسی خاص غزل کی مکمل تشریح؟


Post a Comment

0 Comments